بنگلورو:23؍فروری(ایس اؤ نیوز)عوامی اداروں کو خانگیانہ (پرائیویٹ) کرتےہوئے بھارت ’سیل ‘(فروخت) کیا جارہاہے تو دوسری طرف سی اے اے ، این آر سی جیسے قوانین کے ذریعے ملک کے شہریوں کو پریشانی میں مبتلا کرکے بھارت کو ہی ’جیل‘ بنانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ ریاست کے مشہور و معروف کنڑا ادیب ، مفکردیونور مہادیو نے ان خیالات کا اظہار کیا۔
شہر میں کینرا بینک اسٹاف فیڈریشن (سی بی ایس ایف ) کے پانچویں آل انڈیا اجلاس میں خطاب کرتےہوئے انہوں نے کہاکہ بھارت پٹرولیم ادارہ پچھلے پانچ برسوں سے مسلسل اوسطً 5ہزار کروڑ وپیوں سے زائد منافع دے رہاہے۔ اس کمپنی سے حکومت کو ڈی ویڈنڈ، جی ایس ٹی ، کارپوریٹ ٹیکس کے طورپر پانچ برسوں میں 30ہزارکروڑ روپئے ادا کئے گئے ہیں۔ لیکن اس منافع بخش کمپنی کو حکومت صرف 60ہزار کروڑ روپئے فروخت کی ہے۔
دیونور مہادیو نے ٹریڈ یونینس پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئےکہاکہ جس طرح پہلے ٹریڈ یونین کام کرتے ہوتھے اب ان میں کافی فرق آیا ہے۔ گلوبلائزیشن اور نجی کاری کے بعد آج کی پیشہ ور تنظیمیں پیروں میں بندھی ہوئی زنجیروں کو لے کر چلنے میں تکلیف محسوس کررہی ہیں۔
آر بی آئی میں 45(ای )نامی ایک قانون ہے جس کو انگریزوں نے 1934میں بنایا تھا۔یہ قانون انگریز افسران بینکوں سے قرضہ لے کر رقم ادا نہ کرتےہوئے دغا(دھوکہ ) دیتے ہیں تو اس کو خفیہ رکھتاہے۔ یہی قانون آج بھی جاری ہے، کارپوریٹ کمپنیوں کے چور اس رازدارانہ قانون کے تحت محترم ہوجاتےہیں۔ بینکوں کی جڑوں کو کمزور کرنےو الے ایسے قانون کےخلاف بینک ملازمین جدوجہد نہیں کرنے والا سوال ستاتا ہے۔ آر بی آئی 45(ای ) قانون کے خلاف ادارے جدوجہد کرتے تو سبھی عوامی بینک اپنے ہونے کا دیونور مہادیو نے خیال ظاہر کیا۔